'' حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ کا ایمان لانے کا حیران کُن واقعہ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ کا واقعہ اہلِ عقل و دانش کے لیے حیران کُن ہے اور وہ یہ ہے کہ:
'' اِسلام لانے سے قبل حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ ایک بُت کی پوجا کِیا کرتے تھے۔آپ رضی اللّہ عنہُ کی بیٹی فالج و جذام کی بیماری میں مُبتلا تھی اور چلنے پِھرنے سے قاصر تھی۔آپ رضی اللّہ عنہُ اپنے بُت کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنی بیٹی کو بھی اس کے سامنے بِٹھا لیتے اور پِھر یہ کہتے کہ میری یہ بیٹی بیمار ہے اِس کا عِلاج کر دے۔اگر تیرے پاس اس کی شِفاء ہے تو اسے مُصیبت و بیماری سے چُھٹکارا دے دے۔ ''
کئی سال اس بُت سے اپنی حاجت پوری کرنے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اس نے ان کی حاجت برآری نہ کی۔جب آپ رضی اللّہ عنہُ پر توفیق و ہدایت کی بادِ عنایت چلی تو آپ رضی اللّہ عنہُ نے اپنی زوجہء محترمہ سے اِرشاد فرمایا:
'' کب تک اس بہرے و گونگے پتّھر کی عِبادت کرتے رہیں گے؟ جو نہ آواز نِکالتا ہے،نہ بات کرتا ہے،میں اِسے دینِ حق گُمان نہیں کرتا۔ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ کی بیوی نے عرض کی:
'' آپ ہمیں کسی راستے پر لے چلیں۔اُمید ہے کہ ہم راہِ حق پا لیں گے،یقیناً اس مشرق و مغرب کا کوئی تو خدا ہو گا۔ ''
حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ اپنے گھر کی چھت پر بُت کے سامنے بیٹھے تھے کہ:
'' اچانک آپ رضی اللّہ عنہُ نے ایک نُور دیکھا جس نے آفاق کو بھر دیا اور ساری موجودات کو روشنی سے چمکا دیا اور پِھر اللّہ سبحان و تعالیٰ نے آپ رضی اللّہ عنہُ کی نِگاہِ بصیرت سے پردے ہٹا دیے تاکہ آپ خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں،پِھر آپ رضی اللّہ عنہُ دیکھا کہ فرشتے قطار در قطار ایک گھر کے گِرد جمع ہیں،پہاڑ سجدہ ریز،زمین ساکت و جامد اور درخت جُھکے ہوئے ہیں،خوشیاں عروج پر ہیں اور پِھر ایک آواز سُنی کہ ہدایت دینے والے نبیء محترم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہو گئی ہے۔اس کے بعد آپ رضی اللّہ عنہُ اپنے بُت کے پاس آئے تو وہ بھی اوندھا پڑا ہُوا تھا۔ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ نے اپنی بیوی سے کہا:
'' یہ کیا ہو رہا ہے؟ کس چیز کا ظہور ہو رہا ہے؟ یہ کیسی خبر سُنائی دے رہے؟ ''
پِھر بُت کو گُھور کر دیکھا تو وہ کہہ رہا تھا:
'' توجہ سے سُنو! ایک بہت بڑی خبر کا ظہُور ہو چُکا ہے اور وہ یہ کہ آج وہ ہستی دنیا میں تشریف لا چُکی ہے جو کائنات کو شرف بخشے گی،وہ نبیء آخرالزماں صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا چُکے ہیں جن کا صدیوں اِنتظار کِیا جا رہا تھا جن سے حجر و شجر گُفتگُو فرمائیں گے،چاند ان کی خاطر دو ٹُکڑے ہو گا اور وہ نبی ربعیہ و بنی مضر کے سردار ہیں۔ ''
حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے اپنی زوجہ سے اِستسفار فرمایا:
'' کیا تم سُن رہی ہو،یہ بے جان پتّھر کیا کہہ رہا ہے؟ ''
اس نے عرض کی:
'' اس سے مولودِ محترم کا اِسمِ گرامی تو دریافت کریں۔ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ نے پوچھا:
'' اے وہ غیبی آواز جو اس سخت پتّھر کی زبان سے گُفتگُو فرما رہی ہے! تجھے اس ذات کی قسم جس نے تجھے قوتِ گویائی عطا فرمائی! ذرا یہ تو بتاؤ کہ اس پیدا ہونے والی ہستی کا اِسمِ گرامی کیا ہے؟ ''
آواز آئی:
'' حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم جو صاحبِ زم زم و صفا یعنی حضرت اِسماعیل علیہ السّلام کے بیٹے ہیں۔آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی زمین تہامہ ہے،آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مُہرِ نبوّت ہے اور سخت گرم دُھوپ میں بادل آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ فگن رہے گا۔ ''
حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے اپنی اہلیہ سے اِرشاد فرمایا:
'' چلو! آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نِکلیں،تاکہ ہم آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب راہِ حق پا لیں۔ ''
ابھی وہ دونوں میاں بیوی گُفتگُو کر ہی رہے تھے کہ:
'' ان کی بیٹی جو نیچے گھر میں بیمار پڑی تھی،اچانک ان کے پاس چھت پر آ کھڑی ہوئی اور انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ نے دیکھا تو پوچھا:
'' اے بیٹی! کہاں گیا تیرا وہ درد اور بیماری جس میں تو ہمیشہ مُبتلا تھی؟ اور کہاں گیا تیرا بے قراری کی وجہ سے راتوں کو جاگنا؟ ''
بیٹی نے جواب دیا:
'' اے میرے والدِ محترم! میں نے خواب دیکھا کہ میرے سامنے ایک نُور ہے اور ایک شخص میرے پاس آیا۔میں نے اس سے دریافت کِیا یہ نُور کس کا ہے جو میں دیکھ رہی ہوں؟ اور یہ شخص کون ہے جس کا نُور مُبارک مجھ پر چمک رہا ہے؟ مجھے جواب مِلا! یہ نُور بنی عدنان کے سردار صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے جن سے ساری کائنات مُعطّر ہو گئی ہے۔میں نے پِھر پوچھا ان کا اِسمِ گرامی کیا ہے؟ تو جواب مِلا! ان کا نام مُبارک محمد اور احمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ہے،قیدیوں اور مُصیبت زدوں پر رحم اور مُجرموں کو معاف فرمائیں گے۔میں نے پوچھا ان کا دین کیا ہے؟ جواب مِلا! دینِ حنیف۔میں نے پوچھا ان کا نسب کیا ہے؟ جواب مِلا! قریشی عدنانی۔میں نے پوچھا یہ کس کی عِبادت کریں گے؟ جواب مِلا! خدائے وحدہ لاشریک عزوَجل کی۔میں نے پوچھا اے مجھ سے خطاب فرمانے والے تُو کون ہے؟ جواب مِلا! میں ان کی آمد کی بشارت دینے والے فرشتوں میں سے ایک ہوں۔میں نے عرض کی جس دُکھ درد میں مَیں مُبتلا ہوں اس کے بارے تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے جواب دیا! بارگاہِ ربُّ العزت میں ان کی عظمت اور جاہ و مرتبہ کا وسیلہ پیش کرو کہ اللّہ عزوَجل نے خود اِرشاد فرمایا ہے! میں اپنا راز اور اپنی بُرہان ان کو ودیعت کر دی ہے،اب جس نے بھی ان کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی،میں ضرور اس کو قبول کروں گا اور قیامت کے دن اپنے نافرمان کے حق میں بھی ان کی شفاعت قبول فرماؤں گا۔پس! میں نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور اللّہ عزوَجل کی بارگاہ میں آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے مرتبہء کمال کا واسطہ دے کر دعا کی اور اپنے ہاتھ جِسم پر پھیر لیے۔اب جب کہ میں بیدار ہوئی تو بالکل تندرست ہو چُکی تھی جیسا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ ''
حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے اپنی زوجہ سے فرمایا:
'' یقیناً اس مولودِ مسعود صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر خوش آئند اور بڑی دِل آویز ہے،ہم آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی عجیب و غریب نِشانیاں سُن اور دیکھ رہے ہیں،میں تو ضرور آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی محبّت میں وادیاں اور گھاٹیاں عبور کرتا ہُوا آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ تک رسائی حاصل کروں گا۔ ''
چنانچہ وہ قافلے کے ہمراہ گھر سے نِکل کھڑے ہوئے اور مکّہء مکرمہ کا قصد کِیا۔وہاں پہنچ کر حضرت آمنہ رضی اللّہ عنہا کے گھر کے متعلق دریافت کِیا،اور پِھر کاشانہء اقدس کے دروازے پر دستک دی۔جواب مِلنے پر عرض کی:
'' ہمیں اس نومولود ہستی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرا دیں جس کے نُور کی بدولت اللّہ عزوَجل نے موجودات کو منوّر فرمایا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے آباؤاجداد شرف والے ہو گئے ہیں۔ ''
اس پر حضرت آمنہ رضی اللّہ عنہا نے اِرشاد فرمایا:
'' میں ہرگِز اس ہستی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو باہر نہیں نِکالوں گی کیونکہ مجھے یہودیوں کی جانِب سے تکلیف پہنچائے جانے کا خطرہ ہے۔ ''
انہوں نے عرض کی:
'' ہم نے تو آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی محبّت میں اپنے وطن سے جُدائی گوارا کی،حبیبِ خدا صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا حُسن و جمال دیکھنے کے لیے اپنا دِین چھوڑا اور اپنے بدنوں کو تھکاوٹ سے چُور چُور کر دیا۔ ''
حضرت آمنہ رضی اللّہ عنہا کچھ دیر کے لیے دروازے سے ہٹ گئیں اور دوبارہ واپس آ کر انہیں اِرشاد فرمایا:
'' اندر آ جاؤ۔ ''
جب شمعِ رسالت کے پروانوں نے اِجازت پا کر باریابی کا شرف حاصل کِیا تو انوارِ حبیب صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوے دیکھ کر نِثار ہو گئے اور بے اِختیار تکبیر و تہلیل کے نعرے زبانوں پر جاری ہو گئے اور پِھر جب رُخِ زیبا سے نقاب ہٹا تو آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ اقدس سے ایسی روشنی نمودار ہوئی جس کی کِرنیں آسمان تک جا پہنچِیں۔یہ دیکھ کر سب خوشی و مسرّت سے بے خود ہو گئے۔قریب تھا کہ:
'' رعب و دبدبہ سے بے ہوش ہو جاتے لیکن سنبھل گئے اور آگے بڑھ کر قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ ''
حضرت آمنہ رضی اللّہ عنہا نے ان سے اِرشاد فرمایا:
'' جلدی کرو کیونکہ آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا جان حضرتِ عبدامطلب ( رضی اللّہ عنہُ ) نے وعدہ لے رکھا ہے کہ میں آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے چُھپا کر رکھوں اور آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے شان و مرتبہ کو مخفی رکھوں۔ ''
وہ حبیبِ خدا صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے اس حال میں جُدا ہوئے کہ:
'' دِلوں میں محبّت کی آگ بھڑک رہی تھی۔ ''
پِھر حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے بے خودی میں اپنا ہاتھ دِل پر رکھ دیا اور کہا:
'' مجھے واپس حضرت آمنہ ( رضی اللّہ عنہُ ) کے درِ دولت پر لے چلو،ان سے دوسری بار رُخِ مُصطفیٰ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے حُسن و جمال کی زیارت کی بھیک مانگتے ہیں۔ ''
لہٰذا وہ سب ان کی یہ بے قراری دیکھ کر واپس چل پڑے۔جب حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ دوڑ کر آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمین شریفین سے لِپٹ گئے اور گُھٹی گُھٹی سانسیں لینے لگے اور پِھر اسی حالت میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے اور اللّہ عزوَجل نے ان کی رُوحِ پاک کو جنّت میں پہنچا دیا۔
نام کتاب = اَلرّؤضُ الفائق فی المَواعِظ وَ الرّقائق
ترجمہ بنام = حِکایتیں اور نصیحتیں
صفحہ = 577 تا 580
مؤلف = مُبلِّغ اِسلام الشَّیخ شُعیب حَرِیفِیش رحمتہ اللّہ علیہ
مترجمین = مدنی علماء شعبہ تراجمِ کُتب ( المدینۃُ العِلمیۃ )
آپ رضی اللّہ عنہُ کا واقعہ اہلِ عقل و دانش کے لیے حیران کُن ہے اور وہ یہ ہے کہ:
'' اِسلام لانے سے قبل حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ ایک بُت کی پوجا کِیا کرتے تھے۔آپ رضی اللّہ عنہُ کی بیٹی فالج و جذام کی بیماری میں مُبتلا تھی اور چلنے پِھرنے سے قاصر تھی۔آپ رضی اللّہ عنہُ اپنے بُت کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنی بیٹی کو بھی اس کے سامنے بِٹھا لیتے اور پِھر یہ کہتے کہ میری یہ بیٹی بیمار ہے اِس کا عِلاج کر دے۔اگر تیرے پاس اس کی شِفاء ہے تو اسے مُصیبت و بیماری سے چُھٹکارا دے دے۔ ''
کئی سال اس بُت سے اپنی حاجت پوری کرنے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اس نے ان کی حاجت برآری نہ کی۔جب آپ رضی اللّہ عنہُ پر توفیق و ہدایت کی بادِ عنایت چلی تو آپ رضی اللّہ عنہُ نے اپنی زوجہء محترمہ سے اِرشاد فرمایا:
'' کب تک اس بہرے و گونگے پتّھر کی عِبادت کرتے رہیں گے؟ جو نہ آواز نِکالتا ہے،نہ بات کرتا ہے،میں اِسے دینِ حق گُمان نہیں کرتا۔ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ کی بیوی نے عرض کی:
'' آپ ہمیں کسی راستے پر لے چلیں۔اُمید ہے کہ ہم راہِ حق پا لیں گے،یقیناً اس مشرق و مغرب کا کوئی تو خدا ہو گا۔ ''
حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ اپنے گھر کی چھت پر بُت کے سامنے بیٹھے تھے کہ:
'' اچانک آپ رضی اللّہ عنہُ نے ایک نُور دیکھا جس نے آفاق کو بھر دیا اور ساری موجودات کو روشنی سے چمکا دیا اور پِھر اللّہ سبحان و تعالیٰ نے آپ رضی اللّہ عنہُ کی نِگاہِ بصیرت سے پردے ہٹا دیے تاکہ آپ خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں،پِھر آپ رضی اللّہ عنہُ دیکھا کہ فرشتے قطار در قطار ایک گھر کے گِرد جمع ہیں،پہاڑ سجدہ ریز،زمین ساکت و جامد اور درخت جُھکے ہوئے ہیں،خوشیاں عروج پر ہیں اور پِھر ایک آواز سُنی کہ ہدایت دینے والے نبیء محترم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہو گئی ہے۔اس کے بعد آپ رضی اللّہ عنہُ اپنے بُت کے پاس آئے تو وہ بھی اوندھا پڑا ہُوا تھا۔ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ نے اپنی بیوی سے کہا:
'' یہ کیا ہو رہا ہے؟ کس چیز کا ظہور ہو رہا ہے؟ یہ کیسی خبر سُنائی دے رہے؟ ''
پِھر بُت کو گُھور کر دیکھا تو وہ کہہ رہا تھا:
'' توجہ سے سُنو! ایک بہت بڑی خبر کا ظہُور ہو چُکا ہے اور وہ یہ کہ آج وہ ہستی دنیا میں تشریف لا چُکی ہے جو کائنات کو شرف بخشے گی،وہ نبیء آخرالزماں صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا چُکے ہیں جن کا صدیوں اِنتظار کِیا جا رہا تھا جن سے حجر و شجر گُفتگُو فرمائیں گے،چاند ان کی خاطر دو ٹُکڑے ہو گا اور وہ نبی ربعیہ و بنی مضر کے سردار ہیں۔ ''
حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے اپنی زوجہ سے اِستسفار فرمایا:
'' کیا تم سُن رہی ہو،یہ بے جان پتّھر کیا کہہ رہا ہے؟ ''
اس نے عرض کی:
'' اس سے مولودِ محترم کا اِسمِ گرامی تو دریافت کریں۔ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ نے پوچھا:
'' اے وہ غیبی آواز جو اس سخت پتّھر کی زبان سے گُفتگُو فرما رہی ہے! تجھے اس ذات کی قسم جس نے تجھے قوتِ گویائی عطا فرمائی! ذرا یہ تو بتاؤ کہ اس پیدا ہونے والی ہستی کا اِسمِ گرامی کیا ہے؟ ''
آواز آئی:
'' حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم جو صاحبِ زم زم و صفا یعنی حضرت اِسماعیل علیہ السّلام کے بیٹے ہیں۔آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی زمین تہامہ ہے،آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مُہرِ نبوّت ہے اور سخت گرم دُھوپ میں بادل آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ فگن رہے گا۔ ''
حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے اپنی اہلیہ سے اِرشاد فرمایا:
'' چلو! آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نِکلیں،تاکہ ہم آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب راہِ حق پا لیں۔ ''
ابھی وہ دونوں میاں بیوی گُفتگُو کر ہی رہے تھے کہ:
'' ان کی بیٹی جو نیچے گھر میں بیمار پڑی تھی،اچانک ان کے پاس چھت پر آ کھڑی ہوئی اور انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ ''
آپ رضی اللّہ عنہُ نے دیکھا تو پوچھا:
'' اے بیٹی! کہاں گیا تیرا وہ درد اور بیماری جس میں تو ہمیشہ مُبتلا تھی؟ اور کہاں گیا تیرا بے قراری کی وجہ سے راتوں کو جاگنا؟ ''
بیٹی نے جواب دیا:
'' اے میرے والدِ محترم! میں نے خواب دیکھا کہ میرے سامنے ایک نُور ہے اور ایک شخص میرے پاس آیا۔میں نے اس سے دریافت کِیا یہ نُور کس کا ہے جو میں دیکھ رہی ہوں؟ اور یہ شخص کون ہے جس کا نُور مُبارک مجھ پر چمک رہا ہے؟ مجھے جواب مِلا! یہ نُور بنی عدنان کے سردار صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے جن سے ساری کائنات مُعطّر ہو گئی ہے۔میں نے پِھر پوچھا ان کا اِسمِ گرامی کیا ہے؟ تو جواب مِلا! ان کا نام مُبارک محمد اور احمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ہے،قیدیوں اور مُصیبت زدوں پر رحم اور مُجرموں کو معاف فرمائیں گے۔میں نے پوچھا ان کا دین کیا ہے؟ جواب مِلا! دینِ حنیف۔میں نے پوچھا ان کا نسب کیا ہے؟ جواب مِلا! قریشی عدنانی۔میں نے پوچھا یہ کس کی عِبادت کریں گے؟ جواب مِلا! خدائے وحدہ لاشریک عزوَجل کی۔میں نے پوچھا اے مجھ سے خطاب فرمانے والے تُو کون ہے؟ جواب مِلا! میں ان کی آمد کی بشارت دینے والے فرشتوں میں سے ایک ہوں۔میں نے عرض کی جس دُکھ درد میں مَیں مُبتلا ہوں اس کے بارے تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے جواب دیا! بارگاہِ ربُّ العزت میں ان کی عظمت اور جاہ و مرتبہ کا وسیلہ پیش کرو کہ اللّہ عزوَجل نے خود اِرشاد فرمایا ہے! میں اپنا راز اور اپنی بُرہان ان کو ودیعت کر دی ہے،اب جس نے بھی ان کے وسیلے سے مجھ سے دعا کی،میں ضرور اس کو قبول کروں گا اور قیامت کے دن اپنے نافرمان کے حق میں بھی ان کی شفاعت قبول فرماؤں گا۔پس! میں نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور اللّہ عزوَجل کی بارگاہ میں آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے مرتبہء کمال کا واسطہ دے کر دعا کی اور اپنے ہاتھ جِسم پر پھیر لیے۔اب جب کہ میں بیدار ہوئی تو بالکل تندرست ہو چُکی تھی جیسا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ ''
حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے اپنی زوجہ سے فرمایا:
'' یقیناً اس مولودِ مسعود صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر خوش آئند اور بڑی دِل آویز ہے،ہم آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی عجیب و غریب نِشانیاں سُن اور دیکھ رہے ہیں،میں تو ضرور آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی محبّت میں وادیاں اور گھاٹیاں عبور کرتا ہُوا آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ تک رسائی حاصل کروں گا۔ ''
چنانچہ وہ قافلے کے ہمراہ گھر سے نِکل کھڑے ہوئے اور مکّہء مکرمہ کا قصد کِیا۔وہاں پہنچ کر حضرت آمنہ رضی اللّہ عنہا کے گھر کے متعلق دریافت کِیا،اور پِھر کاشانہء اقدس کے دروازے پر دستک دی۔جواب مِلنے پر عرض کی:
'' ہمیں اس نومولود ہستی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرا دیں جس کے نُور کی بدولت اللّہ عزوَجل نے موجودات کو منوّر فرمایا ہے اور جس کی وجہ سے اس کے آباؤاجداد شرف والے ہو گئے ہیں۔ ''
اس پر حضرت آمنہ رضی اللّہ عنہا نے اِرشاد فرمایا:
'' میں ہرگِز اس ہستی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو باہر نہیں نِکالوں گی کیونکہ مجھے یہودیوں کی جانِب سے تکلیف پہنچائے جانے کا خطرہ ہے۔ ''
انہوں نے عرض کی:
'' ہم نے تو آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی محبّت میں اپنے وطن سے جُدائی گوارا کی،حبیبِ خدا صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا حُسن و جمال دیکھنے کے لیے اپنا دِین چھوڑا اور اپنے بدنوں کو تھکاوٹ سے چُور چُور کر دیا۔ ''
حضرت آمنہ رضی اللّہ عنہا کچھ دیر کے لیے دروازے سے ہٹ گئیں اور دوبارہ واپس آ کر انہیں اِرشاد فرمایا:
'' اندر آ جاؤ۔ ''
جب شمعِ رسالت کے پروانوں نے اِجازت پا کر باریابی کا شرف حاصل کِیا تو انوارِ حبیب صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوے دیکھ کر نِثار ہو گئے اور بے اِختیار تکبیر و تہلیل کے نعرے زبانوں پر جاری ہو گئے اور پِھر جب رُخِ زیبا سے نقاب ہٹا تو آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ اقدس سے ایسی روشنی نمودار ہوئی جس کی کِرنیں آسمان تک جا پہنچِیں۔یہ دیکھ کر سب خوشی و مسرّت سے بے خود ہو گئے۔قریب تھا کہ:
'' رعب و دبدبہ سے بے ہوش ہو جاتے لیکن سنبھل گئے اور آگے بڑھ کر قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ ''
حضرت آمنہ رضی اللّہ عنہا نے ان سے اِرشاد فرمایا:
'' جلدی کرو کیونکہ آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا جان حضرتِ عبدامطلب ( رضی اللّہ عنہُ ) نے وعدہ لے رکھا ہے کہ میں آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے چُھپا کر رکھوں اور آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے شان و مرتبہ کو مخفی رکھوں۔ ''
وہ حبیبِ خدا صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے اس حال میں جُدا ہوئے کہ:
'' دِلوں میں محبّت کی آگ بھڑک رہی تھی۔ ''
پِھر حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے بے خودی میں اپنا ہاتھ دِل پر رکھ دیا اور کہا:
'' مجھے واپس حضرت آمنہ ( رضی اللّہ عنہُ ) کے درِ دولت پر لے چلو،ان سے دوسری بار رُخِ مُصطفیٰ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے حُسن و جمال کی زیارت کی بھیک مانگتے ہیں۔ ''
لہٰذا وہ سب ان کی یہ بے قراری دیکھ کر واپس چل پڑے۔جب حضرت عامر رضی اللّہ عنہُ نے آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ دوڑ کر آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمین شریفین سے لِپٹ گئے اور گُھٹی گُھٹی سانسیں لینے لگے اور پِھر اسی حالت میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے اور اللّہ عزوَجل نے ان کی رُوحِ پاک کو جنّت میں پہنچا دیا۔
نام کتاب = اَلرّؤضُ الفائق فی المَواعِظ وَ الرّقائق
ترجمہ بنام = حِکایتیں اور نصیحتیں
صفحہ = 577 تا 580
مؤلف = مُبلِّغ اِسلام الشَّیخ شُعیب حَرِیفِیش رحمتہ اللّہ علیہ
مترجمین = مدنی علماء شعبہ تراجمِ کُتب ( المدینۃُ العِلمیۃ )
Comments
Post a Comment